00:00نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
00:08رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي، يَفْقَهُوا قَوْلِي
00:16سورة البقرة
00:18رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الزَّهْرَاوَيْنِ — دو جگمگانے والی سورتیں — البقرہ اور آلِ عمران پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے وہ دو بادل، یا دو سائبان، یا دو پرندوں کے جھنڈ ہیں۔ یہ دو سورتیں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے اوپر اس طرح چھائی ہوئی ہوں گی — shade ہوگا ان کا — جیسے بادل ہو، یا پرندوں کے جھنڈ ہو، یا جیسے umbrella ہو، سائبان۔ اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔
00:59سورت بقرہ پڑھا کرو؛ اسے پڑھنا باعث برکت اور چھوڑنا باعث حسرت ہے، اور باطل قوتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ صحیح مسلم کی روایت ہے یہ۔
01:12صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں آتا ہے: جس گھر میں سورت بقرہ پڑھی جائے، شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔
01:20سورت البقرہ قرآن پاک کی طویل ترین سورت ہے — سب سے لمبی سورت ہے، سب سے بڑی سورت ہے — جو ڈھائی پاروں پر مشتمل، مدنی سورت؛ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اور مدنی سورتیں کونسی ہوتی ہیں؟ جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں۔
01:39سورت البقرہ جس گھر میں پڑھی جائے، اس گھر سے شیطان چلا جاتا ہے۔ اور آگے جب آپ پڑھیں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ واقعی شیطان کیوں چلا جاتا ہے — شیطان کو بھگانے کے لیے کیسے کیسے کام بتائے گئے۔
01:55ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس کے الفاظ میں کوئی منتر ہے، یا کوئی ایسا جادو کی چھڑی ہے، کہ ہم وہ کرتے جائیں گے اور وہ شیطان نکل جائے گا۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس میں ایسے احکامات موجود ہیں کہ اگر انسان ان پر عمل کرنا شروع کر دے، تو پھر شیطان ایسے لوگوں پر قابو نہیں پا سکتا، ان کے پاس نہیں رہ سکتا؛ وہ چلا جاتا، ڈرتا ہے ان سے۔
02:16نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الزَّهْرَاوَيْنِ — دو چمکنے والیاں — البقرہ اور آلِ عمران پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے وہ دو بادل، یا سائبان، یا پرندوں کے جھنڈ ہو۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی، یعنی ان کو چھڑائیں گی۔ سورت بقرہ پڑھا کرو؛ اسے پڑھنا باعث برکت، چھوڑ دینا باعث حسرت، اور باطل قوتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی — یعنی جادو وغیرہ کا اثر نہیں ہوتا۔
02:57الفاظ کی وضاحت دیکھئے۔
02:59بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
03:02الٓمٓ۔ الٓمٓ۔
03:05ذَلِكَ — ذَلِكَ اصل میں تھا ذَا اور لام اور کاف؛ یہ تین چیزیں جو ایک جگہ جمع؟ ہیں۔ ذَا اسم اشارہ ہوتا ہے، اور لام: اشارہ جو دور کی چیز کے لیے کیا جائے، اور کاف مخاطب کے لیے، یعنی سامنے والے کے لیے۔ ذَلِكَ: وہ۔
03:25الْكِتَابُ — یہاں بھی آپ دیکھئے: ال اور کتاب۔ ال کا معنی کیا بتایا گیا آپ کو؟ خاص — The؟۔ اور کتاب: کتاب۔ کتاب کہتے ہیں لکھی ہوئی چیز کو — Book۔ الْكِتَابُ۔
03:41لَا: نہیں۔ رَيْبَ: کوئی شک۔ فِيهِ — یہ اصل میں تھا فِي اور هِ؛ فِي اور هِ الگ الگ۔ فِي کہتے ہیں: میں — in؛ اور هِ: اس کے۔ فِيهِ: اس میں، یعنی اس کے اندر۔
03:58هُدًى: ہدایت۔ لِلْمُتَّقِينَ: متقین کے لیے۔ یہاں آپ دیکھئے کہ ایک ہے لام اور ایک ہے متقین — لِلْمُتَّقِينَ۔ لام کا مطلب ہوتا ہے: کے لیے۔ پیچھے پڑھا آپ نے — کہاں؟ لِلَّهِ: اللہ کے لیے۔ تو یہاں کیا؟ لِلْمُتَّقِينَ: متقین کے لیے۔ اور متقین جمع ہے متقی کی، اور متقی کا لفظ نکلا ہے تقویٰ سے، اور root ہے اس کا: واؤ، قاف، یا۔
04:28الَّذِينَ: یہ وہ لوگ ہیں۔ يُؤْمِنُونَ: جو ایمان لاتے ہیں۔ يُؤْمِنُونَ کا لفظ ایمان سے ہے، اور اس کا root: ہمزہ، میم، نون — امن سے۔
04:39بِالْغَيْبِ — یہاں بھی آپ دیکھئے کہ ایک بے ہے اور ایک الغیب۔ بے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کہاں پڑھا آپ نے؟ بِسْمِ اللَّهِ۔ الغیب — غیب کا جو root ہے وہ کیا ہے؟ غین، یا، با۔ بِالْغَيْبِ: غیب کے ساتھ۔
04:58وَ: اور۔ يُقِيمُونَ — يُقِيمُونَ کا root کیا ہے؟ قاف، واؤ، میم۔ اس سے پہلے بھی کسی کا root قاف، واؤ، میم پڑھا آپ نے؟ مستقیم۔ مستقیم کا کیا مطلب ہے؟ سیدھا — straight۔ اور يُقِيمُونَ: قائم کرتے ہیں، اور مراد: اسے سیدھا کر کے رکھتے ہیں؟۔ سیدھا کرتے ہیں۔
05:20الصَّلَاةَ — صلاۃ۔ صلاۃ کا root ہے: صاد، لام، واؤ۔
05:23وَ اور مِمَّا۔ مِمَّا اصل میں تھا مِنْ اور مَا — مِنْ مَا۔ مِنْ کا مطلب ہوتا ہے: سے، اور مَا کا مطلب ہوتا ہے: جو۔ تو مِنْ مَا کا کیا مطلب بنا؟ سے جو — یعنی اس میں سے جو۔
05:38پھر ہے رَزَقْنَاهُمْ — رَزَقْنَاهُمْ۔ اس میں آپ دیکھئے: رزق — پہلے کیا ہے؟ را۔ پھر کیا ہے؟ زا۔ پھر قاف۔ را، زا، قاف — کیا بنتا ہے؟ رزق۔ رزق کیا ہوتا ہے؟ provision — جو انسانوں کو، حیوانوں کو اپنی زندگی کے لیے چاہیے ہوتی ہیں۔ رزق۔
06:07نَا — کہاں پڑھا ہے؟ اهْدِنَا۔ ٹھیک ہے۔ یہ وہی نَا ہے؛ نَا کا مطلب ہے: ہم۔ رَزَقْنَا: رزق دیا ہم نے۔ هُمْ: ان کو۔ رَزَقْنَاهُمْ۔
06:22يُنْفِقُونَ — يُنْفِقُونَ۔ يُنْفِقُونَ کا مطلب ہے: خرچ کرتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں، اس کا root نکالتے ہیں: يُنْفِقُونَ — نون، فا اور قاف — نفق۔ نفق کہتے ہیں سوراخ کو۔ يُنْفِقُونَ: وہ خرچ کرتے ہیں، یعنی اپنی جیب میں سوراخ کرتے ہیں، نکالتے بھی ہیں اس کو۔ يُنْفِقُونَ۔
06:48وَالَّذِينَ: اور وہ لوگ۔ پیچھے پڑھا الَّذِينَ — کہاں پڑھا؟ صِرَاطَ الَّذِينَ۔ دوبارہ آ گیا۔
06:57يُؤْمِنُونَ — يُؤْمِنُونَ پہلے پڑھا؛ کیا پڑھا؟ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ اور اب یہ دوبارہ کیا ہے؟ يُؤْمِنُونَ بِمَا۔ بِمَا جو ہے، اس کا آپ دیکھئے: بِمَا — ایک ہے بِ اور ایک ہے مَا — بِ مَا۔ بِ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ ساتھ۔ اور مَا کا کیا مطلب ہے؟ جو۔ مِنْ مَا: سے جو؛ اور بِ مَا: ساتھ جو۔
07:27أُنْزِلَ: نازل کیا گیا۔ اردو میں کبھی پڑھا آپ نے، نازل ہونا؟ فلاں نازل ہو گیا — کیا مطلب ہوتا ہے؟ آ گیا۔ أُنْزِلَ — اس کا آپ root دیکھئے: نون، زے، لام — نزل: اترنا۔ بِمَا أُنْزِلَ۔
07:47آگے کیا؟ إِلَيْكَ۔ إِلَيْكَ بھی اصل میں تھا إِلَى اور كَ۔ إِلَى کا مطلب ہوتا ہے: تک، طرف؛ اور كَ: مخاطب کے لیے — تمہارے، آپ کے۔ اور إِلَيْكَ کا کیا مطلب پڑھا آپ نے؟ آپ کی طرف۔ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ۔
08:10وَمَا — وَ: کہاں پڑھا آپ نے پہلے؟ وَلَا الضَّالِّينَ۔ پیچھے سے جتنا ملا کے آپ پڑھیں گے، بہت جلدی سیکھ جائیں گے۔ وَ۔ اور مَا کا کیا مطلب ہے؟ جو۔ وَمَا: اور جو۔ اب آپ دیکھیں، مَا کتنی دفعہ آ چکا ہے: مِنْ مَا، بِ مَا، وَ مَا۔ ٹھیک ہے؟ جو۔
08:32أُنْزِلَ — again — اتارا گیا۔ مِنْ: سے۔ پیچھے پڑھا ہے مِنْ — کہاں؟ مِمَّا۔ ٹھیک ہے۔ قَبْلِكَ — اس کا root ہے: قاف، بے، لام۔ اور كَ کس کے لیے ہے؟ مخاطب کے لیے — إِلَيْكَ کی طرح۔ قَبْلِكَ — وَمِنْ قَبْلِكَ؟۔
08:55وَبِالْآخِرَةِ — بے کا کیا مطلب ہے؟ ساتھ۔ اور آخرت کس سے ہے؟ آخر سے۔ آخر کس کو کہتے ہیں؟ آخری — last — قیامت کا دن۔ بِالْآخِرَةِ۔
09:09هُمْ — وہ یقین رکھتے ہیں۔ اور يُوقِنُونَ کا جو root ہے، وہ ہے: یا، قاف، نون۔ يُوقِنُونَ۔
09:23أُولَئِكَ — أُولَئِكَ کا معنی تھا: یہی لوگ۔ عَلَى — عَلَى کا کیا مطلب ہے؟ اوپر۔ پیچھے پڑھا آپ نے — کہاں؟ عَلَيْهِمْ: عَلَى اور هُمْ تھا۔ عَلَى کا مطلب ہے اوپر۔
09:38أُولَئِكَ عَلَى هُدًى — هُدًى پڑھا: هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔ مِنْ پڑھا۔ رَبِّهِمْ — رَبِّ پڑھا آپ نے۔ هِمْ: ان کے۔ هِمْ اور هُمْ ایک ہی چیز ہے۔
یہ نقل 09:54 پر ختم ہوتی ہے؛ لیکچر ویڈیو میں 52:44 تک جاری ہے۔